سوال
میں جدہ میں مقیم ہوں اور حنفی مسلک کو فالو کرتا ہوں اس بار حج کا ارادہ ہے مجھے جدہ سے حج کا پورا طریقہ بتا دیں عین کرم ہوگا.
جواب
جو شخص میقات کی حدود سے باہر رہائش پذیر ہو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ حج قران کرے یا قران نہ کرسکتا ہو تو حج تمتع کرے،کیونکہ سب سے افضل حج قران ہے، پھر حج تمتع پھر حج افراد ہے، لیکن مکہ، حدود حرم اور حدود میقات کے اندر رہنے والے حج قران یا حج تمتع نہیں کرسکتے ہیں، اس لئے یہ لوگ صرف حج افراد کرسکتے ہیں، آپ چونکہ جدہ میں رہائش پزیر ہیں اور جدہ میقات کی حدود کے اندر واقع ہے اس لئے آپ کو حج افراد کرنا ہوگا۔
حج افراد کا طریقہ یہ ہے کہ حج افراد کرنے والا احرام باندھتے ہوئے صرف حج کی نیت کرے گا،اگر وہ افراد کرنے والا حاجی حدودِ حرم سے باہر سے آیا ہے تو وہ سب سے پہلے طواف قدوم کرے گا، اور اگر حدود حرم میں ہی پہلے سے رہائش پذیر ہے تو اس پر طواف قدوم نہیں ہے (آپ چونکہ حدود حرم کے باہر سے آئیں گے اس لئے آپ طواف قدوم کریں گے)، پھر آٹھ ذو الحجہ کی فجر کی نماز کے بعد منی جائے گا، وہاں نو ذو الحجہ کی صبح تک رہے گا،نو ذو الحجہ کی فجر کی نماز کے بعد عرفات جائے گا اور غروبِ آفتاب تک وہاں ٹھہرے گا،غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ کے لیے روانہ ہوگا، رات مزدلفہ میں قیام کرے گا اور فجر کی نماز مزدلفہ میں ادا کرنے کے بعد منیٰ کے لیے روانہ ہوگا،منیٰ پہنچ کر بڑے شیطان کو کنکریاں مارے گا، اور اس کے بعد حلق کرا کر احرام سے نکل جائے گا، تاہم طوافِ زیارت سے پہلے بیوی اس پر حلال نہیں ہوگی۔اس کے بعد طوافِ زیارت کرنا چاہے تو اسی دن کر لے، ورنہ بارہ ذو الحجہ کی مغرب سے پہلے پہلے تک کسی بھی وقت کر سکتا ہے۔اور اس طواف کے ساتھ صفا اور مروہ کی سعی بھی کر لے۔ اس کے بعد واپس منیٰ آجائے یا اپنی رہائش پر جانا چاہے تو جا سکتا ہے، تاہم رات منیٰ میں گزارے کہ یہ مسنون ہے۔
اگلے دن گیارہ ذو الحجہ اور اس سے اگلے دن بارہ ذو الحجہ کو زوال کے بعد تینوں شیطانوں کی رمی کرے۔ زوال سے پہلے رمی کرنا درست نہیں ہے۔ گیارہ ذوالحجہ کی رات بھی منیٰ میں گزارنا مسنون ہے۔بارہ ذو الحجہ کی رمی سے فارغ ہونے کے بعد اگر وہ حدود حرم سے باہر کا رہائش پذیر ہے تو اس کو اپنے وطن یا شہر واپسی سے پہلے طواف وداع کرنا واجب ہے،اور اگر حدود حرم کا ہی رہائشی ہے تو بارہ ذو الحجہ کی رمی کے بعد اس کا حج مکمل ہو جائے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144110200513
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن














0 تبصرے