جب شادی شدہ عورت پر حج فرض ہو، توکیا وہ (عورت)اپنے بھانجے (بہن کےبیٹے) کے ساتھ حج پر جا سکتی ہے؟ جب کہ اس کی بہن اور بہنوئی بھی ساتھ ہے، بھانجا اس کا محرم بنے گا ، مگر اس کا شوہر اس کو اجازت نہیں دے رہا ہے،یہاں تک کہ شوہر کہ رہا ہے کہ اگر ان کے ساتھ حج پر گئی تو میں تجھے طلاق دے دوں گا،توکیا اس(عورت) کے لیے حج پر جانا لازم ہے؟

 

سوال

 جب شادی شدہ عورت پر حج فرض ہو، توکیا  وہ (عورت)اپنے  بھانجے (بہن کےبیٹے) کے ساتھ حج پر جا سکتی ہے؟ جب کہ اس کی بہن اور بہنوئی بھی ساتھ ہے، بھانجا اس کا محرم بنے گا ، مگر  اس کا شوہر اس کو اجازت نہیں دے رہا ہے،یہاں تک کہ شوہر کہ رہا ہے کہ اگر ان کے ساتھ حج پر گئی تو میں تجھے طلاق دے دوں گا،توکیا  اس(عورت) کے لیے  حج پر جانا  لازم ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ فرض  کی ادائیگی کے لیے شوہر کی اجازت ضروری نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر عورت کا سگا بھانجا بالغ ہو اور فتنے كا  اندیشہ نہ ہو،تو اس کے ساتھ حج پر جاسکتی ہے،شوہر کا منع کرنادرست نہیں ہے، لہذا بیوی کو چاہیے کہ وہ   شوہر کو سمجھائے،  اور اس کو اعتماد میں لے،لیکن اگر وہ پھر بھی نہیں مانتا اور بیوی کو منع ہی کرتا ہے تو بیوی کے لیے حج کو مؤخر کرنے کی گنجائش ہے ، تاہم شوہر منع کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔

فتوی نمبر : 144410101081

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


0 تبصرے