سوال
کیا حج افراد کرنے والا نفلی طواف اور عمرہ کرسکتاہے ؟ جواب بمع حوالہ مطلوب ہے
جواب
حج افراد کرنے والا شخص کے لیے نفلی طواف کرنا جائز ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، باقی حج افراد کے احرام پر عمرہ کا احرام باندھنے میں یہ تفصیل ہے کہ :
1- اگر کسی آفاقی نے حج کے احرام پر عمرہ کا احرام داخل کیا تو پس اگر اُ س نے طوافِ قدوم شروع کرنے سے پہلے یعنی ایک چکر پورا کرنے سے پہلے حج کے احرام پر عمرہ کا احرام داخل کیا تووہ دونوں اس پر لازم ہوجائیں گے کیوں کہ آفاقی کے حق میں حج اور عمرہ کو جمع کرنا مشروع ہے، پس اس طرح جمع کرکے وہ قارن (حجِ قران کرنے والا) ہوجائے گا، لیکن سنت کے خلاف کرنے کی وجہ سے بُرائی کا مرتکب ہوگا اور گناہ گار ہوگا، اس لیے کہ سنت یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کے احرام ایک ساتھ باندھے یا عمرے کے احرام کو حج کے احرام پر مقدم کرے، یعنی پہلے عمرہ کا احرام باندھے اس کے بعد حج کا احرام اس پر داخل کرے ۔ بہر حال اس پر بالاتفاق دمِ شکر یعنی دمِ قران واجب ہوگا کیوں کہ اس کا قران صحیح ہے اوراس میں بُرائی کم ہے، اور اس کے لیےعمرہ ترک کرنا مستحب بھی نہیں ہے ۔
2- اگر آفاقی نے طوافِ قدوم شروع کرنے کے بعد عمرہ کا احرام باندھا خواہ ایک ہی چکر کرنے کے بعد باندھا ہو اور وہ مکہ معظمہ میں ہو یا عرفات میں وقوفِ عرفہ کے وقت سے پہلے باندھا ہو تب بھی اس پر دونوں (عمرہ اور حج) لازم ہوجائیں گے اور وہ قارن ہوجائے گا، لیکن ایسا کرنا پہلی صورت کی بہ نسبت زیادہ برا ہے اور وہ زیادہ گناہ گار ہوگا، اور اس کے لیے عمرہ ترک کرنا بالاتفاق مستحب ہے، پس اگر اس نے عمرہ کو ترک کردیا تو اس کی قضا کرے گا، کیوں کہ اس کا شروع ہونا درست ہے ( اور شروع کرنے سے عمرہ واجب ہوجاتا ہے ) اور اس کے ترک کی وجہ سے اس پر دمِ رفض (عمرہ یا حج شروع کرکے ترک کنرے کی وجہ سے واجب ہونے والا دم)بھی واجب ہوگا۔ اور اگر عمرہ کو ترک نہ کیا اور اس کے افعال ادا کرلیے تو درست و جائز ہے، تاہم اس صورت میں دمِ شکرواجب ہے ۔
(عمدۃ الفقہ)
فتوی نمبر : 144012200172
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن














0 تبصرے