حج تمتع اور حج بدل کرنے کا طریقہ بتا دیں

 

سوال

حج تمتع اور حج بدل کرنے کا طریقہ بتا دیں

 

جواب

۱)"تمتع"  کے لغوی معنیٰ ہیں ’’کچھ وقت تک فائدہ اٹھانا‘‘ ۔ حج تمتع یہ ہے کہ آدمی ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج  ساتھ ساتھ کرے، لیکن اس طرح کہ دونوں کے احرام الگ الگ باندھے، اپنے وطن سے صرف عمرے کا احرام باندھ کر جائے اور عمرہ کر لینے کے بعد احرام کھول کر ان ساری چیزوں سے فائدہ اٹھائے جو احرام کی حالت میں ممنوع ہو گئی تھیں، پھر حج کا احرام باندھ کر حج ادا کرے، اس حج  میں چوں کہ  عمرہ اور  حج کی درمیانی مدت میں احرام کھول کر حلال چیزوں سے فائدہ اٹھانے کا کچھ وقت مل جاتا ہے (بر خلاف حجِ قران کے  کہ اس میں حج اور عمرہ کے درمیان احرام کھولنے کی سہولت حاصل نہیں ہوتی ) ؛ اس لیے اس حج کو "حجِ تمتع" کہتے ہیں۔

حج تمتع کرنے  کا اجمالی طریقہ یہ ہے کہ حج تمتع کرنے والامیقات یا اس سے پہلے عمرہ کی نیت سے احرام باندھ کرحج کے مہینوں میں عمرہ کرے گا، عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد  حلق یا قصر کروانے کے بعد  حلال ہو جائے گا،پھر آٹھ ذی الحجہ کو حرم میں حج کا احرام   باندھے گا اور دس ذی الحجہ کو رمی، قربانی اور حلق یا قصر کرواکر حلال ہو جائے گا، دس سے بارہ ذی الحجہ کے درمیان ایک مرتبہ طواف زیارت اور تین دن (یعنی دس،  گیارہ اور  بارہ  ذی الحج) کی رمی کرنے سے حج تمتع مکمل ہوجائے گا، مکہ مکرمہ سے  واپسی کے وقت طوافِ وداع کرنا ہوگا۔

حج تمتع کرنے کا تفصیلی طریقہ یہ ہے کہ  میقات یا اس سے پہلے  عمرہ کی نیت سے احرام باندھ کر حج کے مہینوں (یعنی شوال، ذیقعدہ اور ذی الحج کا پہلا عشرہ) میں عمرہ کیا جائے، عمرہ کا طریقہ یہ ہے کہ مکہ مکرمہ آکر طواف کرے، یعنی بیت اللہ کے سات چکر لگائے، ہر چکر حجر اسود سے شروع کرے اور اسی پر ختم کرے، ہر چکر کے شروع میں حجر اسود کا استلام کرے اور ساتویں چکر سے فارغ ہو کر آٹھویں مرتبہ   حجر اسود کا استلام کرے ( استلام کا مطلب یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو حجر اسود کو بوسہ دیا جائے اور اگر براہِ راست بوسہ دینا ممکن نہ ہو تو ہاتھوں کے ذریعہ سے حجر اسود کو چھو کر اپنے ہاتھوں کا بوسہ لیا جائے، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو یا حالتِ احرام میں حجر اسود پر لگی خوشبو لگنے کا اندیشہ ہو تو دور سے حجر اسود کی طرف ہاتھوں سے اشارہ کر کے پھر ہاتھوں کا بوسہ لیا جائے)، طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے، لہٰذا اگر مکروہ وقت نہ ہو تو اسی وقت پڑھے، ورنہ مکروہ وقت ختم ہونے کے بعد پڑھے، یہ دو رکعت کعبہ کی طرف منہ کر کے مقامِ ابراہیم کو سامنے لے کر پڑھے، (اگر مقامِ ابراہیم کے قریب رش زیادہ ہو تو مسجدِ حرام میں کسی بھی جگہ ادا کرلے) پھر زم زم پی کر سعی کے لیے جائے اور جانے سے پہلے حجر اسود کا نویں مرتبہ استلام کرے، سعی صفا سے شروع کرے مروہ تک ایک چکر، پھر مروہ سے صفا تک دوسرا چکر، اسی طرح سات چکر لگائے، اس کے بعد مسجدِ حرام میں آکر دو رکعت پڑھے،(یہ دو رکعت ادا کرنا مستحب ہے، واجب نہیں، اگر یہ دو رکعت ادا نہیں کیں تو بھی عمرہ مکمل ہوگیا، ان کے چھوڑنے پر کوئی دم لازم نہیں ہوگا، نہ ہی کراہت لازم آئے گی) اس کے بعد حلق کروائے، یہ عمرہ ہوا، اب احرام کھول دے اور  اپنے کپڑوں میں رہے، کیوں کہ احرام کی پابندیاں ختم ہوچکی ہیں، اس کے بعد مکہ مکرمہ میں قیام کرے یا کسی اور جگہ جانا چاہے تو جائے مگر اپنے وطن نہ جائے، مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے بڑی عبادت طواف ہے، اس لیے جتنا وقت فرض، واجب اور سنت ادا کرنے کے بعد بچے وہ طواف میں لگانے کی کوشش کرے اور حرم پاک میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارے ، اگر اس دوران مزید عمرے کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

پھر جب حج کا وقت ( یعنی آٹھ ذی الحجہ) آجائے تو غسل کر کے حج کا احرام باندھ لے اور طواف کر کے سعی کرلے (یہ سعی مقدم ہوگی،  یعنی اگر ابھی سعی کرلی تو پھر طواف زیارت کے بعد سعی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن اگر ابھی سعی نہیں کی تو پھر طوافِ زیارت کے بعد سعی کرنی پڑے گی)، اس کے بعد منیٰ چلا جائے، آٹھ ذی الحجہ کی ظہر سے لے کر نو ذی الحجہ کے سورج نکلنے تک منیٰ میں رہے، نو ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے بعد عرفات روانہ ہوجائے، اگر مکتب والے اس سے پہلے لے جائیں تو پہلے چلا جائے کوئی حرج نہیں،زوال سے پہلے  عرفات پہنچ جائے، کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جب ظہر کا وقت داخل ہوجائے تو ظہر پڑھ لے، اگر مسجد نمرہ کے امام کے پیچھے پڑھے تو ظہر اور عصر اکھٹی پڑھے، پہلے ظہر پھر عصر، اگر اپنے خیمہ میں پڑھنی ہو تو اذان دے کر اقامت کے ساتھ صرف ظہر پڑھے، پھر وقوف کرے، اس میں دعائیں پڑھے، کلمہ طیبہ، شہادت، تمجید استغفار، درود شریف وغیرہ جس قدر ہو سکے پڑھے، کھڑا ہوکر پڑھتا رہے، کھڑے کھڑے تھک جائے تو بیٹھ کر پڑھے، عصر کا وقت آئے تو اذان و اقامت کے ساتھ عصر پڑھے، پھر غروب تک اسی طرح دعا اور ذکر میں مشغول رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، غروب کے بعد عرفات سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہو جائے، مغرب کی نماز عرفات میں نہ پڑھے، بلکہ  مزدلفہ میں جاکر ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ مغرب اور عشاء کی فرض نماز اکھٹے عشاء کے وقت میں پڑھے، پھر اس کے بعد پہلے مغرب کی سنت پھر عشاء کی سنت اور وتر وغیرہ پڑھے، پھر نیند کا تقاضا ہو تو سو جائے اور اگر جاگنا چاہے تو ذکر ، تسبیح، درود ، استغفار اور تلاوت وغیرہ میں مشغول رہے، تہجد پڑھے، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے، اس دوران تقریباً ستر کنکریاں بھی جمع کرلے، فجر کی نماز اول وقت یعنی اندھیرے میں پڑھے، پھر کھڑے ہوکر وقوف کرے اور کچھ دیر دعا کرے، پھر اس کے بعد منیٰ آجائے، منیٰ میں اس دن (یعنی دس ذی الحجہ کو) صرف جمرہ عقبہ یعنی سب سے آخر والے (بڑے) شیطان کو سات کنکریاں مارے، اس کے بعد منیٰ ہی میں یا حدودِ حرم کے اندر کہیں بھی قربانی کرے، پھر سر منڈائے (سر منڈانے کے بعد احرام کی ساری پابندیاں ختم ہوجائیں گی سوائے بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے کے، بیوی طوافِ زیارت کے بعد حلال ہوگی)، اب احرام کھول کر سلے ہوئے کپڑے پہن کر مکہ مکرمہ آجائے اور طوافِ زیارت کرے، یہ طواف فرض ہے، اگر حج کا احرام باندھنے کے بعد نفلی طواف کے بعد سعی نہ کی ہو تو اب طوافِ زیارت کے بعد سعی بھی کرے، پھر اس کے بعد منٰی واپس آجائے، رات کو منٰی میں رہے، صبح ( یعنی گیارہ ذی الحجہ کی صبح) اٹھ کر زوال کے بعد ترتیب سے سب سے پہلے، پہلے والے شیطان کو الگ الگ سات کنکریاں مار کر ایک طرف ہو کر دعا کرے، پھر دوسرے شیطان کو اسی طرح سات کنکریاں مار کر کچھ دور ہو کر دعا کرے، پھر تیسرے شیطان کو سات کنکریاں مار کر دعا کیے بغیر واپس آجائے، یہ رات بھی منٰی میں گزارے، صبح ( یعنی بارہ ذی الحجہ کی صبح)  کو پھر زوال کے بعد اسی طرح تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں مارے، اب اگر بارہ ذی الحجہ کو ہی مکہ مکرمہ واپس جانا چاہے تو جا سکتا ہے اور اگر تیرہ ذی الحجہ کی صبح صادق تک منٰی میں رکے گا تو تیرہ ذی الحجہ کی رمی (شیطان کو کنکریاں مارنا) بھی کرنی پڑے گی، دس سے بارہ ذی الحجہ کے اندر اندر طوافِ زیارت ضرور کرے، ورنہ  بارہ کے بعد طوافِ زیارت کرنے کی صورت میں تاخیر کی وجہ سے ایک دم لازم ہو جائے گا، بہرحال یہ تمام افعال کرنے سے حج مکمل ہوگیا ہے، مکہ مکرمہ سے وطن واپس آتے وقت طوافِ وداع کر کے آئے، یہ طواف واجب ہے۔

نوٹ:

  • تمتع کے لیے آفاقی یعنی میقات سے باہر رہنے والا ہونا شرط ہے، مکہ مکرمہ میں رہنے والے اور میقات کے اندر رہنے والے کے لیے تمتع کرنا جائز نہیں ہے۔
  • حج تمتع کرنے والا ایک عمرہ کرنے کے بعد  حج کے احرام سے پہلے مزید عمرے بھی کرسکتا ہے۔
  • دسویں ذی الحجہ کو منٰی میں قربانی کرنا حجِ قران اور حجِ تمتع کرنے والے پر واجب ہے، (یہ قربانی عام واجب قربانی سے الگ مستقل قربانی ہے جو حجِ قران اور حجِ تمتع میں بطورِ شکر واجب ہوتی ہے) جب کہ حج افراد کرنے والے پر واجب نہیں، مستحب ہے۔
  • حج تمتع کرنے والے پر طوافِ قدوم نہیں ہے، حج تمتع کرنے والا عمرہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور ساتوں چکروں میں اضطباع کرے گا، البتہ عورتوں کے لیے رمل اور اضطباع کا حکم بالکل نہیں ہے، اس لیے عورتیں طواف میں رمل اور اضطباع بالکل نہ کریں۔

۲)جس شخص پر استطاعت کی وجہ سے حج فرض ہوگیا اور اس نے حج کا زمانہ پایا مگر کسی وجہ سے حج نہ کر سکا، پھر کوئی ایسا عذر پیش آگیا جس کی وجہ سے خود حج کرنے پر قدرت نہیں رہی مثلاً ایسا بیمار ہوگیا جس سے شفا کی امید نہیں یا نابینا ہوگیا یا اپاہج ہو گیا یا فالج ہوگیا یا بڑھاپے کی وجہ سے ایسا کمزور ہوگیا کہ خود سفر کرنے پر قدرت نہیں رہی، تو اس آدمی کے لیے اپنی طرف سے کسی دوسرے آدمی کو بھیج کر حج بدل کروانا یا اپنے مرنے کے بعد اپنے ترکے سے اپنی طرف سے حج بدل  کروانے کی وصیت کرنا فرض ہے، وصیت کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’میرے مرنے کے بعد میری طرف سے میرے مال سے حج بدل کرادیا جائے‘‘۔

حج بدل کرتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

  • ت یا جس زندہ معذور آدمی کی طرف سے حجِ بدل  کیا جارہا ہے اس کے وطن سے کرانا چاہیے؛ کیوں کہ میت یا زندہ معذور آدمی اگر خود حج کرتے تو اپنے وطن سے کرتے، البتہ اگر وصیت یا فرضیت کے بغیر کوئی شخص اپنے عزیز کی طرف سے حج بدل کرتا ہے تو وہ ایصالِ ثواب کا نفل حج ہے، وہ ہر جگہ سے ہو سکتا ہے۔
  • احرام کے وقت حج کی نیت میت یا جس زندہ معذور آدمی کی طرف سے  حج کر رہا ہے اس کی طرف سے کرنی چاہیے، یعنی احرام باندھتے وقت زبان سے یہ کہے کہ "میں فلاں شخص کی طرف سے حج کی نیت کرتا ہوں" اور اگر نام بھول جائے تو یہ کہے کہ ’’جس شخص کی طرف سے مجھ کو حج کے لیے بھیجا گیا ہے میں اس کی طرف سے حج کی نیت کرتا ہوں‘‘۔ اگر حج بدل کا احرام باندھتے وقت اس آدمی کی طرف سے حجِ بدل کرنے کی نیت نہیں کرے گا تو حجِ بدل ادا نہیں ہوگا اور ضمان لازم آئے گا؛ کیوں کہ اس نے حجِ بدل کے لیے پیسہ لینے کے باوجود حجِ بدل نہیں کیا۔
  • حجِ بدل کرنے والے کو حج افراد کرنا چاہیے، یعنی وطن سے جاتے ہوئے صرف حج کا احرام باندھنا چاہیے،اور دس ذی الحجہ تک اس احرام میں رہنا چاہیے، البتہ حجِ بدل کے لیے بھیجنے والے کی اجازت سے حجِ بدل میں حجِ تمتع اور حجِ قران کرنا بھی جائز ہے، لیکن حجِ تمتع یا قران کرنے کی صورت میں جو دمِ شکر (قربانی) لازم ہوتی ہے اگر بھیجنے والا اپنی خوشی سے اس قربانی کی قیمت ادا کردے تو بہتر، ورنہ اپنے پاس سے قربانی کرنی ہوگی، موجودہ زمانہ میں عرف کے اعتبار سے حج کے لیے بھیجنے والے کی طرف سے تمتع، قران اور قربانی کی اجازت ثابت ہے؛ اس لیے واضح طور پر اجازت لینا ضروری نہیں، تاہم صراحۃً اجازت لے لینا زیادہ بہتر ہے، حجِ بدل کرانے والے کو چاہیے کہ حجِ بدل کرنے والے کو ہر قسم کا اختیار دے دے، تاکہ حساب، خرچ، تمتع، قران، قربانی یا کوئی حادثہ، بیماری یا عذر وغیرہ کے سلسلہ میں مزید اجازت کی ضرورت پیش نہ آئے، عام اجازت اس طرح دے کہ ’’ میری طرف سے جس طرح چاہو حج کر لینا ‘‘۔
  • حجِ بدل کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ  حجِ بدل جس کی طرف سے کیا جارہا ہے سارا خرچہ  یا خرچہ کا اکثر حصہ اسی کے مال میں سے ادا کیا جائے۔
  • حجِ بدل کرانے والا حجِ بدل کرنے والے کو جانے سے آنے تک تمام خرچہ دے،  بلکہ واپسی تک اس کے گھر والوں کا خرچہ جن کی کفالت اس کے ذمہ ہے ان کا خرچہ بھی دینا چاہیے، لیکن حجِ بدل کرنے والے کو جو خرچہ دیا جائے اس میں اس پر انتہائی ایمان داری، دیانت داری اور  احتیاط لازم ہے، ورنہ حق العباد کا مؤاخذہ ہوگا، سفر کے بعد جو رقم بچے وہ واپس کردے اور بہتر یہ ہے کہ بھیجنے والا پہلے ہی کہہ دے کہ اگر خرچ میں کوئی بد عنوانی اتفاقاً ہوجائے تو وہ میری طرف سے معاف ہے۔
  • حجِ بدل کرنے کے لیے باشعور عاقل اور بالغ ہونا ضروری ہے، نابالغ بچے اور پاگل حجِ بدل نہیں کرسکتے اور حجِ بدل کرنے والا دین دار اور قابلِ اعتماد ہونا چاہیے اور حجِ بدل کے مسائل سے واقف ہونا چاہیے، بلکہ عالم ہو تو زیادہ بہتر ہے اور پہلے سے حج کیا ہوا ہونا چاہیے خواہ غریب ہو یا امیر، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
  • اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ حجِ بدل اجرت کے بدلہ نہ کروایا جائے۔
  • حجِ بدل کرنے والا آمر ( جس کے حکم سے حج کر رہا ہے ) کے حکم کی مخالفت نہ کرے، اور دی گئی ہدایات کے مطابق حج کرے۔
  • حجِ بدل کرنے والا صرف ایک حج کا احرام باندھے، ایک دفعہ میں متعدد آدمیوں کی طرف سے متعدد حج کا احرام نہ باندھے۔


فتوی نمبر : 143909201497

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن




    0 تبصرے